مہر خبررساں ایجنسی نے العربیہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی حکومت نے وہابی عالم دین الشیخ سعد الحجری کی جانب سے خواتین سے متعلق توہین آمیز بیان جاری کرنے پر ان کے خطبات اور تقاریر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے سعد الحجری نے کہا تھا کہ عورتوں کے پاس ایک چوتھائی عقل ہوتی ہے لہذ انھیں گاڑی چلانے کی اجازت نہ دی جائے سعودی حکومت نے خود عورتوں کے بنیادی حقوق سلب کررکھے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق العسیر کے علاقے کے معروف وہابی عالم دین الشیخ الحجری نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ خواتین کے پاس مردوں کی نسبت ’ایک چوتھائی عقل’ ہوتی ہے۔ ان کے اس بیان پر عوامی حلقوں میں شدید رد عمل سامنے آیا جب کہ سوشل میڈیا پر بھی ان کی حمایت اور مخالفت میں بحث چھڑ گئی۔ بہت سے لوگوں نے الشیخ الحجری کے خواتین سے متعلق بیان کو نا مناسب قرار دیا جب کہ بعدازاں سعودی حکومت نے انہیں مسجد میں امامت، خطابت اور تمام دیگر دعوتی سرگرمیوں سے روک دیا۔
سعودی عرب کے سرکاری ترجمان سعد بن عبداللہ آل ثابت کا کہنا ہے کہ شہزادہ فیصل بن خالد کی جانب سے الشیخ سعد الحجری کو خواتین سے متعلق متنازع بیان دینے پر مساجد میں امامت، خطابت اور دیگر تمام دعوتی و دینی سرگرمیوں سے روک دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ الشیخ سعد الحجری نے خواتین کی ڈرائیونگ کے نقصان پر ایک طویل لیکچر دیا تھا جس میں انہوں نے خواتین کی گاڑی چلانے کے 20 نقصانات بیان کئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے پاس ایک چوتھائی عقل ہوتی ہے اس لئے انہیں ڈرائیونگ کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔
آپ کا تبصرہ